Social Icons

Pages

Showing posts with label News. Show all posts
Showing posts with label News. Show all posts

Thursday, 12 June 2014

معمر ترین بلی ’پوپی‘ 24 برس کی عمر میں مر گئی

دنیا کی معمر ترین بلی کے طور پر پہچانے جانے والی بلی پوپی 24 برس کی عمر میں مر گئی ہے۔
یہ بلی فروری سنہ 1990 میں پیدا ہوئی اور گینیز ورلڈ ریکارڈ نے اس کی عمر کو سرکاری طور پر مئی میں تسلیم کیا۔
پوپی اپنی مالکن جیکی اور ان کے دو بیٹوں کے ساتھ برطانیہ کے جنوبی ساحلی علاقے بورن متھ میں رہتی تھی۔
جیکی نے کہا ’ہم جانتے ہیں کہ وہ بوڑھی ہو چکی تھی لیکن پھر بھی یہ سب تکلیف دہ ہے۔ وہ گذشتہ ہفتے بہت بیمار رہی، اسے اینٹی بائیوٹکس دی جا رہی تھیں لیکن بدھ کو اسے پانی کے باعث انفیکشن ہو گئی اور اس کی پچھلی ٹانگیں ناکارہ ہو گئیں۔‘
جیکی نے مزید کہا ’وہ جمعے کو سہ پہر ساڑھے تین بجے چل بسی۔ میں نے وہ سارا دن اس کے ساتھ گذارا۔‘
بلیوں کی عمر عموماً 15 برس تک ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلی کی عمر کے پہلے دو برس انسانی عمر کے 25 برس کے برابر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہر تین ماہ ایک برس کے برابر۔
اس نظریے کے مطابق پوپی کی عمر 114 برس تھی۔
اس سے پہلے اب تک کی معمر ترین قرار دی جانے والے بلی ٹیکسس کی ’کریم پف‘ تھی جس کی عمر 38 برس تھی۔


Monday, 9 June 2014

تفتان سرحدی علاقے میں لوگوں پر خوف طاری


پاک ایران بارڈر ، بمقام تفتان ،،،،،،،،،،،،،،،،، زائرین پر حملہ،

سرحدی علاقے میں لوگوں پر خوف طاری 
، کاروبار متاثر تجارتی گیٹ بند ، 
لوگوں پر معاشی اثرات بڑھنے کا خدشہ،،،،،،،،،
پیر کی شپ مسلح افراد نے تفتان سرحدی علاقے میں ایران سے آںے والے زائرین کے بسوں اور ہوٹلز پرفائرنگ اور دو خودکش بم حملوں کے بعد رات گئے تک سوشل میڈیا میں ٹوئٹر ایس ایم ایس کے زریعے لوگوں تک خبریں پہنچنا شروع ہوگئی، چاغی نوشکی سے لے کر کوئٹہ بلوچستان تک لوگوں میں خوف طاری ہوگئی ، کہ یہ کس طر ح کا واقع نمودار ہوا ہے ، انہی علاقوں کے لوگ اور رشتہ دار تفتان علاقے میں کاروبار کررہے ہیں ہر ایک اپنےدوست عزیز واقارب کے لئے پریشان ہورہا تھا، شروع میں خبریں اس طرح آرہے تھے کہ تفتان علاقے میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں گوبج رہی ہے، پھر خبر آئی کہ فورسز کا مسلح افراد کے مابین فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے آخرکار کہ یہ کنفرم ہوگئی کہ زائرین پر حملہ ہواہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چاغی کے سرحدی علاقہ تفتان جو ایران بارڈر پر واقعہ ہے ، جہاں پر ایک ایسی خوفناک واقعہ پیش آئی ہے، کیا اس کے خطرناک اثرات ثابت نہیں ہونگے ، حملے کے بعد ایران نے تجارتی گیٹ کو بند کرکے کاروباری لوگوں اور محنت کش لوگوں کے پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا،جن کے علاقے میں گہرے معاشی اثرات مرتب ہونگے ، اور سکیورٹی کے حوالے تفتان میں مزید سکیورٹی سخت ہوگی، کیونکہ پہلے یہ حملے کوئٹہ ، مستونگ کانک آرسی ڈی شاہراہ پر نمودار ہوتے تھے اب یہ پاک ایران سرحدی علاقہ میں پیش آنے کے بعد کئی سوالات کو جنم دی ہے ، کہ اب مستقبل میں لوگوں کو کاروباری حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگی، زیرو پوائنٹ دونوں ملکوں کے درمیان ایک لکھیر کی مانند ہے، جن کے بارے دنوں ممالک مستقبل قریب میں سکیورٹی کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھائینگے، اس واقعہ کے بعد سرحدی علاقہ تفتان اب ریڈ زون میں تبدیل ہوچکی ہے، اس واقعہ نے علاقے میں گہرے اثرات مرتب کردی ہے ، جن کا اثر برائے راست محنت کش لوگوں پر پڑے گا


Sunday, 8 June 2014

تفتان: شیعہ زائرین کی ہلاکتوں کی تعداد 24 ہوگئی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایرانی سرحد کے قریب علاقے تفتان میں اتوار کی شب شیعہ زائرین پر خودکش حملے اور دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان جان بلیدی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے زخمیوں اور لاشوں کو کوئٹہ لانے کے لیے تین ہیلی کاپٹر تفتان روانہ کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تازہ اطلاعات کے مطابق دونوں ہیلی کاپٹر ابھی تک تفتان ہی میں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے حملے میں 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جان بلیدی نے کہا کہ ہلاک ہونے والے شیعہ زایرین میں سے چار کا تعلق کوئٹہ سے ہے جبکہ 20 کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ سے ہے۔
اس سے قبل بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی کے ہمراہ اتوار کی شب کوئٹہ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس حملے کی تصدیق کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان میں اتوار کے روز 300 پاکستانی شیعہ زائرین آئے تھے اور وہ وہاں دو ہوٹلوں میں قیام پذیر تھے۔
انھوں نے بتایا کہ رات ساڑھے 9 بجے کے قریب دو خودکش حملہ آور ایک ہوٹل میں داخل ہوئے جہاں ان کا سامنا سیکورٹی پر تعینات اہلکار سے ہوا۔ اہلکار کی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا تاہم اس حملے کے بعد تین دیگر خود کش حملہ آور دوسرے ہوٹل میں داخل ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ دوسرے ہوٹل میں فائرنگ اور خود کش حملہ آوروں کو اپنے آپ کو اڑانے کے باعث 22 شیعہ زائرین ہلاک ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کے فوراً بعد فرنٹیئر کور اور لیویز فورس کے اہلکار وہاں پہنچے جہاں حملہ آوروں اور ان کے درمیان فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی سے وہاں حملہ آوروں کو مزید لوگوں کو ہلاک کرنے کا موقع نہیں ملا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس حملے میں 7 افراد زخمی بھی ہوئے جن کو ان کی درخواست پر علاج کے لیے ایران منتقل کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان میں شیعہ زائرین پر یہ پہلا حملہ تھا جبکہ رواں سال کے دوران بلوچستان میں شیعہ زائرین پر دوسرا بڑا حملہ تھا۔
21 جنوری 2014 کو ضلع مستونگ میں شیعہ زائرین کی بس کے قریب دھماکے میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے تھے۔
مستونگ کے ڈی پی او محمد عابد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس قافلے کی سکیورٹی پر چار گاڑیاں مامور تھیں، لیکن خودکش بمبار نے اپنی گاڑی بس سے ٹکرا دی۔
اس سے قبل اسسٹنٹ کمشنر مستونگ شفقت انور شاہوانی کے مطابق شیعہ زائرین کی دو بسیں ایران سے واپس آ رہی تھیں کہ درنگڑ کے علاقے میں ان کے راستے پر دھماکہ ہوا اور ایک بس اس کی زد میں آ گئی۔

جنوری کے مہینے میں بلوچستان میں ایران سے آنے والے زائرین کی بس پر حملے کا دوسرا واقعہ تھا۔ اس سے قبل یکم جنوری کو کوئٹہ شہر کے مغربی بائی پاس پر اختر آباد کے علاقے میں ایسی ہی ایک بس پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں حملہ آور سمیت دو افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

تفتان.....4خودکش حملہ آوروں کی کارروائی،23زائرین جاں بحق

تفتان..... پاک ایران سرحدی علاقے تفتان میں مسلح افراد نے دو ہوٹلوں پر خودکش حملہ اور فائرنگ کرکے 23 افراد جان کی جان لے لی، حملے میں 7 افراد زخمی بھی ہوئے۔ صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نےسیکرٹری داخلہ اکبر درانی کے ہمراہ کوئٹہ میں نیو ز کانفرنس میں بتایا کہ ایران سے کوئٹہ آنے والے تین سو کے لگ بھگ زائرین آٹھ بجے تفتان پہنچے تھے۔ ان زائرین کو تفتان کے دو ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا تھا،اس دوران چار خودکش حملہ آوروں نے ان ہوٹلوں پر حملہ کر کے فائرنگ شروع کردی،زائرین کی سیکیورٹی پر تعینات ایف سی اور لیویز اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک جبکہ تین نے خود کو اڑا لیا،جس کے نتیجے میں 23زاہرین جان بحق جبکہ چھ خواتین سمیت سات افراد زخمی ہوئے ۔میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ زخمیوں کو ایران کے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ واقعہ میں جاں بحق ہونے والے زائرین کی میتیں اور ان کے رشتہ داروں کو آج صبح ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کوئٹہ لایا جائے گا ۔ انہوں نے بتایاکہ واقعہ میں محفوظ رہنے والے افراد کو ایف سی قلعہ میں منتقل کردیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ بلوچستان نے بتایا کہ زائرین کو کوئٹہ سے ایران کی فضائی سروس کی پیش کش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے تفتان تک چھ سو کلو میٹر سڑکوں کو محفوظ بنانا مشکل ہے ۔

Friday, 23 May 2014

’ٹوئٹر نے پاکستانی درخواست پر ٹویٹس بلاک کیں‘

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر نے رواں ماہ پاکستان کی ٹویٹس یا ٹوئٹر اکاؤنٹ بلاک کرنے کی پانچ درخواستیں قبول کی ہیں۔
اخبار کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سماجی رابطے کی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ نے اپنی نئی پالیسی کے تحت کسی ملک کی درخواست پر کسی صارف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بلاک کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے میں مبینہ طور پر مذہب کی توہین کرنے والے بلاگروں کے اکاؤنٹ بلاک کرنے اور توہین مذہب کے زمرے میں آنے والی ٹویٹس اور سرچ کو روکنے کے لیے کہا تھا۔
ٹوئٹر نے 2012 میں ایک نئی پالیسی متعارف کروائی تھی جس کے تحت وہ ملک کی مقامی سنسر شپ پالیسی کے اکاؤنٹس، ٹویٹس یا سرچز کو بلاک کرےگا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ایک اہلکار عبدالباطن نے مئی میں پانچ ایسی درخواستیں ٹوئٹر کو بھیجیں جن میں مخصوص اکاؤنٹس، ٹویٹس اور سرچز کو روکنے کا کہاگیا تھا۔ یہ تمام درخواستیں ایسے اکاؤنٹس، ٹویٹس اور سرچز کے بارے میں تھیں جن میں مبینہ طور پر مذہب یا رسالت کی توہین کی گئی تھی

Thursday, 22 May 2014

Proud of Chaghi Habib ullah Sumalani


Proud of Chaghi Habib ullah Sumalani Baloch is recieving Gold Medal from Governor Balochistan Mr. Muhammad Khan Achakza @ Balochistan University Quetta

Wednesday, 21 May 2014

مزدور ڈے، آذات فا و نڈیش کی جانب سے منعقدہ پروگرام


چاغی؛ آذات فا و نڈیش کی جانب سے منعقدہ پروگرام سے نیشنل پارٹی کے رہنما سردار رفیق شیر خطاب کر رہے ھے۔
اس مو قع پر چیرمین منظور راہی بلوچ، حاجی گل خان نصیر بھی موجود ھے۔۔

Mysterious disease kills 200 camels in Chaghi

CHAGHI - A mysterious disease has killed over 200 camels in Barapcha area here, owner of the camels said on Sunday.

Haji Bilal Muhammad Hasni, owner of the camels, had to suffer the losses of millions of rupees as his 200 camels have been killed by a mysterious disease. He said the government should immediately send a team of doctors to the area, otherwise, the disease will spread in the whole region. He said each camel is worth Rs150,000.

Thursday, 24 October 2013

NP KY SUBAI SADAR DR YASEEN DALBANDIN ME

CHAGHI
NP KY SUBAI SADAR DR YASEEN DALBANDIN ME KARKUNAN KY Conference SY KhETHAB KAR RAE HY.
DALBANDIN PHOTO

More Hot Pages